تب[1]

قسم کلام: حرف جزا

معنی

١ - تو، جب کی جزا۔  حق نے تجھ لب کوں دیا معجزہ عیسٰی جب تب مری جان مجھے یہ دل بیمار دیا     "کلمہ جب کی جزا میں تب آتا ہے"      ( دیوان آبرو، ٣ )( جامع القواعد (حصہ نحو)، ١٧٦ ) ١ - اس کے بعد، اس وقت، اس حالت میں، تد۔ "جو پردہ سا تھا وہ ہٹ گیا اور تب اس تصنیف میں مسستغرق ہو گئے"      ( ١٩١٧ء، کرشن بیتی، ١٧٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ اصل تلفظ 'تاوت' تھا۔ لیکن اردو میں 'تَبْ' استعمال ہوا۔ ١٦٦٤ء میں حسن شوقی نے استعمال کیا۔

مثالیں

١ - تو، جب کی جزا۔  حق نے تجھ لب کوں دیا معجزہ عیسٰی جب تب مری جان مجھے یہ دل بیمار دیا     "کلمہ جب کی جزا میں تب آتا ہے"      ( دیوان آبرو، ٣ )( جامع القواعد (حصہ نحو)، ١٧٦ ) ١ - اس کے بعد، اس وقت، اس حالت میں، تد۔ "جو پردہ سا تھا وہ ہٹ گیا اور تب اس تصنیف میں مسستغرق ہو گئے"      ( ١٩١٧ء، کرشن بیتی، ١٧٠ )

اصل لفظ: تاوت